Đăng nhập
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
4:6
وابتلوا اليتامى حتى اذا بلغوا النكاح فان انستم منهم رشدا فادفعوا اليهم اموالهم ولا تاكلوها اسرافا وبدارا ان يكبروا ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فلياكل بالمعروف فاذا دفعتم اليهم اموالهم فاشهدوا عليهم وكفى بالله حسيبا ٦
وَٱبْتَلُوا۟ ٱلْيَتَـٰمَىٰ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغُوا۟ ٱلنِّكَاحَ فَإِنْ ءَانَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًۭا فَٱدْفَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَآ إِسْرَافًۭا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا۟ ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّۭا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًۭا فَلْيَأْكُلْ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ فَأَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبًۭا ٦
وَٱبۡتَلُواْ
ٱلۡيَتَٰمَىٰ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
بَلَغُواْ
ٱلنِّكَاحَ
فَإِنۡ
ءَانَسۡتُم
مِّنۡهُمۡ
رُشۡدٗا
فَٱدۡفَعُوٓاْ
إِلَيۡهِمۡ
أَمۡوَٰلَهُمۡۖ
وَلَا
تَأۡكُلُوهَآ
إِسۡرَافٗا
وَبِدَارًا
أَن
يَكۡبَرُواْۚ
وَمَن
كَانَ
غَنِيّٗا
فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡۖ
وَمَن
كَانَ
فَقِيرٗا
فَلۡيَأۡكُلۡ
بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ
فَإِذَا
دَفَعۡتُمۡ
إِلَيۡهِمۡ
أَمۡوَٰلَهُمۡ
فَأَشۡهِدُواْ
عَلَيۡهِمۡۚ
وَكَفَىٰ
بِٱللَّهِ
حَسِيبٗا
٦
Các ngươi hãy kiểm tra[6] các trẻ mồ côi khi chúng đã đến tuổi trưởng thành, nếu các ngươi nhận thấy chúng đã khôn ngoan thì các ngươi hãy giao lại tài sản của chúng cho chúng. Các ngươi chớ đừng tiêu xài tài sản của chúng một cách phung phí vì lo sợ chúng lấy lại tài sản sau khi đã trưởng thành. (Người giám hộ) nào đã giàu có (hoặc dư dả) thì chớ tiêu pha nó, còn (người giám hộ) nào nghèo khó thì hãy chi dùng nó một cách vừa phải (không tiêu pha lãng phí). Khi các ngươi giao lại tài sản của chúng cho chúng thì các ngươi hãy tìm những người làm nhân chứng cho cuộc giao trả đó. Quả thật, một mình Allah đã đủ thanh toán và xét xử (mọi việc làm của các ngươi). 1
Tafsirs
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:5 đến 4:6
کم عقل اور یتیموں کے بارہ میں احکامات ٭٭

اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے مال کے خرچ سے روک دینا چاہیئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مجنون و دیوانہ ہو یا کم عقل، بیوقوف ہو اور بےدین ہو، بری طرح اپنے مال کو لٹا رہا ہو، اسی طرح ایسا شخص جس پر قرض بہت چڑھ گیا ہو جسے وہ اپنے کل مال سے بھی ادا نہیں کر سکتا اگر قرض خواہ حاکم وقت سے درخواست کریں تو حاکم وہ سب مال اس کے قبضے سے لے لے گا اور اسے بےدخل کر دے گا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں «السُّفَهَاءَ» سے مراد تیری اولاد اور عورتیں ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7] ‏

اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حکم بن عبینہ، حسن اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7] ‏

سعید بن جبیر فرماتے ہیں یتیم مراد ہیں، مجاہد عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ عورتیں مراد ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عورتیں بیوقوف ہیں مگر جو اپنے خاوند کی اطاعت گزار ہوں“ ، (‏ضعیف: اس کی سند میں عثمان بن ابی عاتکہ اور بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں)‏ ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث مطول مروی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرکش خادم ہیں۔

صفحہ نمبر1502

پھر فرماتا ہے انہیں کھلاؤ پہناؤ اور اچھی بات کہو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں یعنی تیرا مال جس پر تیری گزر بسر موقوف ہے اسے اپنی بیوی بچوں کو نہ دے ڈال کہ پھر ان کا ہاتھ تکتا پھرے بلکہ اپنا مال اپنے قبضے میں رکھ اس کی اصلاح کرتا رہ اور خود اپنے ہاتھ سے ان کے کھانے کپڑے کا بندوبست کر اور ان کے خرچ اٹھا۔ [تفسیر ابن جریرالطبری:7/570] ‏

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور پھر بھی وہ اسے طلاق نہ دے دوسرا وہ شخص جو اپنا مال بیوقوف کو دیدے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے بیوقوف کو اپنا مال نہ دو تیسرا وہ شخص جس کا قرض کسی پر ہو اور اس نے اس قرض پر کسی کو گواہ نہ کیا ہو۔ ان سے بھلی بات کہو یعنی ان سے نیکی اور صلہ رحمی کرو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ محتاجوں سے سلوک کرنا چاہیئے اسے جسے بالفعل تصرف کا حق نہ ہو اس کے کھانے کپڑے کی خبرگیری کرنی چاہیئے اور اس کے ساتھ نرم زبانی اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر1503

پھر فرمایا یتیموں کی دیکھ بھال رکھو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں، یہاں نکاح سے مراد بلوغت ہے [تفسیر ابن جریرالطبری:7/584] ‏ اور بلوغت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب اسے خاص قسم کے خواب آنے لگیں جن میں خاص پانی اچھل کر نکلتا ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی یاد ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور نہ تمام دن رات چپ رہنا ہے۔ [سنن ابوداود:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دوسری حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے جب تک بالغ نہ ہو، سوتے سے جب تک جاگ نہ جائے، مجنوں سے جب تک ہوش نہ آ جائے۔ [سنن ابوداود:4398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ایک تو علامت بلوغ یہ ہے۔

صفحہ نمبر1504

دوسری علامت بلوغ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر ہو جائے اس کی دلیل بخاری مسلم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ احد والی لڑائی میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ اس لیے نہیں لیا تھا کہ اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی اور خندق کی لڑائی میں جب میں حاضر کیا گیا تو آپ نے قبول فرما لیا اس وقت میں پندرہ سال کا تھا۔ [صحیح بخاری:2664] ‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو آپ نے فرمایا: نابالغ بالغ کی حد یہی ہے، تیسری علامت بلوغت کی زیر ناف کے بالوں کا نکلنا ہے، اس میں علماء کے تین قول ہیں ایک یہ کہ علامت بلوغ ہے دوسرے یہ کہ نہیں تیسرے یہ کہ مسلمانوں میں نہیں اور ذمیوں میں ہے اس لیے کہ ممکن ہے کسی دوا سے یہ بال جلد نکل آتے ہوں اور ذمی پر جوان ہوتے ہی جزیہ لگ جاتا ہے تو وہ اسے کیوں استعمال کرنے لگا؟ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سب کے حق میں یہ علامت بلوغت ہے کیونکہ اولاً تو جلی امر ہے علاج معالجہ کا احتمال بہت دور کا احتمال ہے ٹھیک یہی ہے کہ یہ بال اپنے وقت پر ہی نکلتے ہیں۔

صفحہ نمبر1505

دوسری دلیل مسند احمد کی حدیث ہے، جس میں سیدنا عطیہ قرضی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو قریظہ کی لڑائی کے بعد ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے حکم دیا کہ ایک شخص دیکھے جس کے یہ بال نکل آئے ہوں اسے قتل کر دیا جائے اور نہ نکلے ہوں اسے چھوڑ دیا جائے چنانچہ یہ بال میرے بھی نہ نکلے تھے مجھے چھوڑ دیا گیا، [سنن ابوداود:4404،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو کر یہ قبیلہ لڑائی سے باز آیا تھا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عن نے یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے لڑنے والے تو قتل کر دئیے جائیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں۔ غرائب ابی عبید میں ہے کہ ایک لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کی نسبت کہا کہ میں نے اس سے بدکاری کی ہے دراصل یہ تہمت تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے تہمت کی حد لگانی چاہی لیکن فرمایا دیکھ لو اگر اس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوں تو اس پر حد جاری کرو ورنہ نہیں دیکھا تو آگے نہ تھے چنانچہ اس پر سے حد ہٹا دی۔

صفحہ نمبر1506

پھر فرماتا ہے جب تم دیکھو کہ یہ اپنے دین کی صلاحیت اور مال کی حفاظت کے لائق ہو گئے ہیں تو ان کے ولیوں کو چاہیئے کہ ان کے مال انہیں دے دیں۔ بغیر ضروری حاجت کے صرف اس ڈر سے کہ یہ بڑے ہوتے ہی اپنا مال ہم سے لے لیں گے تو ہم اس سے پہلے ہی ان کے مال کو ختم کر دیں ان کا مال نہ کھاؤ۔ جسے ضرورت نہ ہو خود امیر ہو کھاتا پیتا ہو تو اسے تو چاہیئے کہ ان کے مال میں سے کچھ بھی نہ لے، مردار اور بہے ہوئے خون کی طرح یہ مال ان پر حرام محض ہے، ہاں اگر والی مسکین محتاج ہو تو بیشک اسے جائز ہے کہ اپنی پرورش کے حق کے مطابق وقت کی حاجت اور دستور کے موجب اس مال میں سے کھا پی لے اپنی حاجت کو دیکھے اور اپنی محنت کو، اگر حاجت محنت سے کم ہو تو حاجت کے مطابق لے اور اگر محنت حاجت سے کم ہو تو محنت کا بدلہ لے لے، پھر ایسا ولی اگر مالدار بن جائے تو اسے اس کھائے ہوئے اور لیے ہوئے مال کو واپس کرنا پڑے گا یا نہیں؟

اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہو گا اس لیے کہ اس نے اپنے کام کے بدلے لے لیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں کے نزدیک یہی صحیح ہے، اس لیے کہ آیت نے بغیر بدل کے مباح قرار دیا ہے۔ اور مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال نہیں ایک یتیم میری پرورش میں ہے تو کیا میں اس کے کھانے سے کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اس یتیم کا مال اپنے کام میں لا سکتا بشرطیکہ حاجت سے زیادہ نہ اڑا، نہ جمع کر، نہ یہ ہو کہ اپنے مال کو تو بچا رکھے اور اس کے مال کو کھاتا چلا جائے۔‏“ [مسند احمد:186/2:جید اسناد] ‏ ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے۔ [سنن ابوداود:2872،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر1507

ابن حبان وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے یتیم کو ادب سکھانے کے لیے ضرورتاً کس چیز سے ماروں؟ فرمایا:”جس سے تو اپنے بچے کو تنبیہہ کرتا ہے اپنا مال بچا کر اس کا مال خرچ نہ کر نہ اس کے مال سے دولت مند بننے کی کوشش کر“ ۔ [صحیح ابن حبان:4244] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میرے پاس بھی اونٹ ہیں اور میرے ہاں جو یتیم پل رہے ہیں ان کے بھی اونٹ ہیں میں اپنی اونٹنیاں دودھ پینے کے لیے فقیروں کو تحفہ دے دیتا ہوں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ ان یتیموں کی اونٹنیوں کا دودھ پی لوں؟ آپ نے فرمایا اگر ان یتیموں کی گمشدہ اونٹنیوں کو تو ڈھونڈ لاتا ہے ان کے چارے پانی کی خبرگیری رکھتا ہے، ان کے حوض درست کرتا رہتا ہے اور ان کی نگہبانی کیا کرتا ہے تو بیشک دودھ سے نفع بھی اٹھا لیکن اس طرح کہ نہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچے،نہ حاجت سے زیادہ لے، [موطا:33/2،934] ‏

عطاء بن رباح عکرمہ ابراہیم نخعی عطیہ عوفی حسن بصری رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔

صفحہ نمبر1508

دوسرا قول یہ ہے کہ تنگ دستی کے دور ہو جانے کے بعد وہ مال یتیم کو واپس دینا پڑے گا اس لیے کہ اصل تو ممانعت ہے البتہ ایک وجہ سے جواز ہو گیا تھا جب وہ وجہ جاتی رہی تو اس کا بدل دینا پڑے گا جیسے کوئی بےبس اور مضطر ہو کر کسی غیر کا مال کھا لے لیکن حاجت کے نکل جانے کے بعد اگر اچھا وقت آیا تو اسے واپس دینا ہو گا، دوسری دلیل یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب تخت خلافت پر بیٹھے تو اعلان فرمایا تھا کہ میری حیثیت یہاں یتیم کے والی کی حیثیت ہے اگر مجھے ضرورت ہی نہ ہوئی تو میں بیت المال سے کچھ نہ لوں گا اور اگر محتاجی ہوئی تو بطور قرض لوں گا جب آسانی ہوئی پھر واپس کر دوں گا (‏ابن ابی الدنیا) یہ حدیث سعید بن منصور میں بھی ہے اور اس کی سند صحیح ہے، بیہقی میں بھی یہ حدیث ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کے اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ بطور قرض کھائے اور بھی مفسرین سے یہ مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں معروف سے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھائے اور روایت میں آپ سے یہ مروی ہے کہ وہ اپنے ہی مال کو صرف اپنی ضرورت پوری ہو جانے کے لائق ہی خرچ کرے تاکہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ پڑے۔ عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر ایسی بےبسی ہو جس میں مردار کھانا جائز ہو جاتا ہے تو بیشک کھا لے لیکن پھر ادا کرنا ہو گا، یحییٰ بن سعید انصار اور ربیعہ رحمہ اللہ علیہم سے اس کی تفسیر یوں مروی ہے کہ اگر یتیم فقیر ہو تو اس کا ولی اس کی ضرورت کے موافق دے اور پھر اس ولی کو کچھ نہ ملے گا، لیکن عبارت میں یہ ٹھیک نہیں بیٹھتا اس لیے کہ اس سے پہلے یہ جملہ بھی ہے کہ جو غنی ہو وہ کچھ نہ لے، یعنی جو ولی غنی ہو تو یہاں بھی یہی مطلب ہو گا جو ولی فقیر ہو نہ یہ کہ جو یتیم فقیر ہو۔

صفحہ نمبر1509

دوسری آیت میں ہے: «وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ» [6-الأنعام:152] ‏ الخ یعنی ” یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ ہاں بطور اصلاح کے پھر اگر تمہیں حاجت ہو تو حسب حاجت بطریق معروف اس میں سے کھاؤ پیو “۔

پھر اولیاء سے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اور تم دیکھ لو کہ ان میں تمیز آ چکی ہے تو گواہ رکھ کر ان کے مال ان کے سپرد کر دو، تاکہ انکار کرنے کا وقت ہی نہ آئے، یوں تو دراصل سچا شاہد اور پورا نگراں اور باریک حساب لینے والا اللہ ہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ولی نے یتیم کے مال میں نیت کیسی رکھی؟ آیا خورد برد کیا تباہ و برباد کیا جھوٹ سچ حساب لکھا اور دیا یا صاف دل اور نیک نیتی سے نہایت چوکسی اور صفائی سے اس کے مال کا پورا پورا خیال رکھا اور حساب کتاب صاف رکھا، ان سب باتوں کا حقیقی علم تو اسی دانا و بینا نگران و نگہبان کو ہے۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں ناتواں پاتا ہوں اور جو اپنے لیے چاہتا ہوں وہی تیرے لیے بھی پسند کرتا ہوں خبردار! ہرگز دو شخصوں کا بھی سردار اور امیر نہ بننا نہ کبھی کسی یتیم کا ولی بننا۔‏“ [صحیح مسلم:1826] ‏

صفحہ نمبر1510
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.