Đăng nhập
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
8:63
والف بين قلوبهم لو انفقت ما في الارض جميعا ما الفت بين قلوبهم ولاكن الله الف بينهم انه عزيز حكيم ٦٣
وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٦٣
وَأَلَّفَ
بَيۡنَ
قُلُوبِهِمۡۚ
لَوۡ
أَنفَقۡتَ
مَا
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
جَمِيعٗا
مَّآ
أَلَّفۡتَ
بَيۡنَ
قُلُوبِهِمۡ
وَلَٰكِنَّ
ٱللَّهَ
أَلَّفَ
بَيۡنَهُمۡۚ
إِنَّهُۥ
عَزِيزٌ
حَكِيمٞ
٦٣
Ngài đã liên kết con tim của (những người có đức tin) lại với nhau. Cho dù Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) có chi dùng hết mọi thứ trên trái đất thì cũng không thể liên kết được trái tim của họ. Chính Allah đã liên kết và mang họ lại với nhau. Thật vậy, Ngài là Đấng Toàn Năng, Đấng Sáng Suốt.
Tafsirs
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 8:61 đến 8:63
جس قوم سے بدعہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو ٭٭

فرمان ہے کہ ” جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کر دو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کر دو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہو جائیں تو تم پھر صلح و صفائی کر لو۔ “

اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کر لی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اختلاف ہو گا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کر لینا۔ [مسند احمد:90/1:ضعیف] ‏

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورۃ براۃ کی آیت سے «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ» [ 9-التوبہ: 29 ] ‏ سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کر لینا بلا شک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی۔

پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے ” اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بے فکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں۔ “

پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ” مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی۔“

صفحہ نمبر3352

” انہیں تجھ پر ایمان لانے تیری اطاعت کرنے کی توفیق دی۔ تیری مدد اور تیری نصرت پر انہیں آمادہ کیا۔ اگرچہ آپ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کر ڈالتے لیکن ان میں وہ الفت وہ محبت پیدا نہ کر سکتے جو اللہ نے خود کر دی۔ ان کی صدیوں پرانی عداوتیں دور کر دیں اور اوس و خزرج انصار کے دونوں قبیلوں میں جاہلیت میں آپس میں خوب تلوار چلا کرتی تھی۔ نور ایمان نے اس عداوت کو محبت سے بدل دیا۔“

جیسے قرآن کا بیان ہے کہ «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ» [ 3-آل عمران: 103 ] ‏ ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے۔“

بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی؟ کیا تم فقیر نہ تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کر دیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے۔ آپ کی ہر بات پر انصار کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے۔ [صحیح بخاری:4330] ‏

الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ ” وہ بلند جناب ہے اس سے اُمید رکھنے والا نا اُمید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے۔“

صفحہ نمبر3353

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے قرابت داری کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے۔ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اگر روئے زمین کے خزانے بھی ختم کر دیتا تو تیرے بس میں نہ تھا کہ ان کے دل ملا دے۔“

شاعر کہتا ہے «‏إِذَا مَتَّ ذُو الْقُرْبَى إِلَيْكَ بِرَحِمِهِ فَغَشَّكَ وَاسْتَغْنَى فَلَيْسَ بِذِي رَحِمِ وَلَكِنَّ ذَا الْقُرْبَى الَّذِي إِنْ دَعَوْتَهُ» تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے۔

اور شاعر کہتا ہے «وَلَقَدْ صَحِبْتُ النَّاسَ ثُمَّ سَبَرْتُهُمْ وَبَلَوْتُ مَا وَصَلُوا مِنَ الأَسْبَابِ فَإِذَا الْقَرَابَةُ لا تُقَرِّبُ قَاطِعًا وَإِذَا الْمَوَدَّةُ أَقْرَبُ الأَنْسَابِ» میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے۔

امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول سیدنا ابن عباسرضی اللہ عنہ کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کر دی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کر سکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائی۔ عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ ”جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے۔“ میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا ”یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت ومحبت پیدا کر دے۔“

صفحہ نمبر3354

ان کے اس فرمان سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ مجھ سے بہت زیادہ سمجھ دار ہیں۔ ولید بن ابی مغیث رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے سنا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں میں نے پوچھا صرف مصافحہ سے ہی؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت کی۔ تو ولید رحمہ اللہ نے فرمایا تم مجھ سے بہت بڑے عالم ہو۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں سب سے پہلے چیز جو لوگوں میں سے اُٹھ جائے گی و الفت و محبت ہے۔

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے۔ ان کے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:6663،] ‏

صفحہ نمبر3355
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.