Đăng nhập
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
9:41
انفروا خفافا وثقالا وجاهدوا باموالكم وانفسكم في سبيل الله ذالكم خير لكم ان كنتم تعلمون ٤١
ٱنفِرُوا۟ خِفَافًۭا وَثِقَالًۭا وَجَـٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ٤١
ٱنفِرُواْ
خِفَافٗا
وَثِقَالٗا
وَجَٰهِدُواْ
بِأَمۡوَٰلِكُمۡ
وَأَنفُسِكُمۡ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِۚ
ذَٰلِكُمۡ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡ
إِن
كُنتُمۡ
تَعۡلَمُونَ
٤١
Các ngươi (hỡi những người có đức tin) hãy ra đi chinh chiến dù thuận lợi hay khó khăn. Các ngươi hãy chiến đấu bằng tài sản và sinh mạng của các ngươi cho con đường chính nghĩa của Allah, điều đó tốt cho các ngươi, nếu các ngươi đã hiểu được (giá trị của nó).
Tafsirs
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے ٭٭

کہتے ہیں کہ سورۃ براۃ میں یہی آیت پہلے اتری ہے اس میں ہے کہ غزوہ تبوک کے لیے تمام مسلمانوں کو ہمراہ ہادی امم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کھڑے ہونا چاہیئے اہل کتاب رومیوں سے جہاد کے لیے تمام مومنوں کو چلنا چاہیئے خواہ جی مانے یا نہ مانے خواہ آسانی نظر آئے یا بھاری پڑے۔

ذکر ہو رہا تھا کہ کوئی بڑھاپے کا کوئی بیمار کا عذر کر دے گا تو یہ آیت اتری۔ بوڑھے جوان سب کو پیغمبر کا ساتھ دینے کا عام الحکم ہوا کسی کا کوئی عذر نہ چلا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی یہی تفسیر کی اور اس حکم کی تعمیل میں سر زمین شام میں چلے گئے۔ اور نصرانیوں سے جہاد کرتے ہی رہے یہاں تک کہ جان بخش کو جان سونپی۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر آئے تو فرمانے لگے ہمارے رب نے تو میرے خیال سے بوڑھے جوان سب کو جہاد کے لیے چلنے کی دعوت دی ہے میرے پیارے بچو میرا سامان تیار کرو۔ میں ملک شام کے جہاد میں شرکت کے لیے ضرور جاؤں گا۔ بچوں نے کہا: ”ابا جی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کیا۔ خلافت صدیقی میں آپ مجاہدین کے ساتھ رہے، خلافت فاروقی کے آپ مجاہد مشہور ہیں اب آپ کی عمر جہاد کی نہیں رہی آپ گھر پر آرام کیجئے ہم لوگ آپ کی طرف سے میدان جہاد میں نکلتے ہیں اور اپنی تلوار کے جوہر دکھاتے ہیں“

لیکن آپ نہ مانے اور اسی وقت گھر سے روانہ ہو گئے سمندر پار جانے کے لیے کشتی لی اور چلے ہنوز منزل مقصود سے کئی دن کی راہ پر تھے جو بیچ سمندر میں روح پروردگار کو سونپ دی، نو دن تک کشتی چلتی رہی لیکن کوئی جزیرہ یا ٹاپو نظر نہ آیا کہ وہاں آپ کو دفنایا جاتا۔ نو دن کے بعد خشکی پر اترے اور آپ کو سپرد لحد کیا اب تک نعش مبارک جوں کی توں تھی رضی اللہ عنہا وارضاہ اور بھی بہت سے بزرگوں سے خفافاً و ثقالاً کی تفسیر جوان اور بوڑھے مروی ہے۔

صفحہ نمبر3477

الغرض جوان ہوں، بوڑھے ہوں، امیر ہوں، فقیر ہوں، فارغ ہوں، مشغول ہوں، خوش حال ہوں یا تنگ دل ہوں، بھاری ہوں یا ہلکے ہوں، حاجت مند ہوں، کاریگر ہوں، آسانی والے ہوں، سختی والے ہوں، پیشہ ور ہوں یا تجارتی ہوں، قوی ہوں یا کمزور، جس حالت میں بھی ہوں بلاعذر کھڑے ہو جائیں اور راہ الہٰی کے جہاد کے لیے چل پڑیں۔

اس مسئلے کی تفصیل کے طور پر ابوعمرو اوزاعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جب اندرون روم پر حملہ ہوا ہو تو مسلمان ہلکے پھلکے اور سوار چلیں۔ اور جب ان بندرگاہوں کے کناروں پر حملہ ہو تو ہلکے، بوجھل، سوار، پیدل ہر طرح نکل کھڑے ہو جائیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ آیت «فَلَوْلَا نَفَرَ» [9-التوبہ:122] ‏ سے یہ حکم منسوخ ہے۔ اس پر ہم پوری روشنی ڈالیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

مروی ہے کہ ایک بھاری بدن کے بڑے شخص نے آپ سے اپنا حال ظاہر کر کے اجازت چاہی لیکن آپ نے انکار کر دیا اور یہ آیت اتری، لیکن یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم پر سخت گزرا۔ پھر جناب باری تعالیٰ نے اسے آیت «لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ» [9-التوبہ:91] ‏ سے منسوخ کر دیا، یعنی ضعیفوں، بیماروں، تنگ دست فقیروں پر جبکہ ان کے پاس خرچ تک نہ ہو اگر وہ دین ربانی اور شرع مصطفیٰ کے حامی اور طرف دار اور خیرخواہ ہوں تو میدان جنگ میں نہ جانے پر کوئی حرج نہیں۔

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اول غزوے سے لے کر پوری عمر تک سوائے ایک سال کے ہر غزوے میں موجود رہے اور فرماتے رہے کہ ”خفیف وثقیل دونوں کو نکلنے کا حکم ہے اور انسان کی حالت ان دو حالتوں سے سوا نہیں ہوتی۔‏“

ابو راشد حبرانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سوار سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو حمص میں دیکھا کہ ہڈی اتر گئی ہے پھر بھی ہودج میں سوار ہو کر جہاد کو جا رہے ہیں تو میں نے کہا: ”اب تو شریعت آپ کو معذور سمجھتی ہے پھر آپ یہ تکلیف کیوں اٹھا رہے ہیں“؟

صفحہ نمبر3478

آپ نے فرمایا: ”سنو! سورۃ الجوث یعنی سورۃ برات ہمارے سامنے اتری ہے جس میں حکم ہے کہ ہلکے بھاری سب جہاد کو جاؤ۔‏“

حیان بن زید شرعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم صفوان بن عمرو والی حمص کے ساتھ جراجمہ کی جانب جہاد کے لیے چلے میں نے دمشق کے ایک عمر رسیدہ بزرگ کو دیکھا کہ حملہ کرنے والوں کے ساتھ اپنے اونٹ پر سوار وہ بھی آ رہے ہیں ان کی بھوئیں ان کی آنکھوں پر پڑ رہی ہیں شیخ فانی ہو چکے ہیں۔ میں نے پاس جا کر کہا: ”چچا صاحب! آپ تو اب اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی معذور ہیں۔‏“ یہ سن کر آپ نے اپنی آنکھوں پر سے بھوئیں ہٹائیں اور فرمایا: ”بھتیجے سنو! اللہ تعالیٰ نے ہلکے اور بھاری ہونے کی دونوں صورتوں میں ہم سے جہاد میں نکلنے کی طلب کی ہے، سنو جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے اس کی آزمائش بھی ہوتی ہے پھر اس پر بعد از ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، سنو اللہ کی آزمائش شکر و صبر و ذکر اللہ اور توحید خالص سے ہوتی ہے۔ جہاد کے حکم کے بعد مالک زمین و زماں اپنی راہ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی میں مال و جان کے خرچ کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔ دنیوی نفع تو یہ ہے کہ یونہی سا خرچ ہو گا اور بہت سی غنیمت ملے گی آخرت کے نفع سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔‏“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ کے ذمے دو باتوں میں سے ایک ضروری ہے وہ مجاہد کو یا تو شہید کر کے جنت کا مالک بنا دیتا ہے یا اسے سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاتا ہے۔‏“ [صحیح بخاری:3123] ‏

صفحہ نمبر3479

خود اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے کہ تم پر جہاد فرض کر دیا گیا ہے باوجود یہ کہ تم اس سے کنی کھا رہے ہو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تمہاری نہ چاہی ہوئی چیز ہی دراصل تمہارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری چاہت کی چیز فی الواقع تمہارے حق میں بےحد مضر ہو سنو تم تو بالکل نادان ہو اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دانا بینا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”مسلمان ہو جا۔‏“ اس نے کہا: ”جی تو چاہتا نہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گو نہ چاہے۔‏“ [مسند احمد:109،181/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3480
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.