登入
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
登入
登入
100:2
فالموريات قدحا ٢
فَٱلْمُورِيَـٰتِ قَدْحًۭا ٢
فَٱلۡمُورِيَٰتِ
قَدۡحٗا
٢
以蹄发火花的马队盟誓,
经注
课程
反思
答案
基拉特
100:1至100:11节的经注
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382] ‏

پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

10796

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔‏“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔‏“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] ‏

مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔

10797

مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (‏اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔

10798

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔‏“

پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا

ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف] ‏

ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔

10799

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔

پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔

جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] ‏ یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔

پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔

سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10800
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有