登入
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
登入
登入
15:21
وان من شيء الا عندنا خزاينه وما ننزله الا بقدر معلوم ٢١
وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٍۢ مَّعْلُومٍۢ ٢١
وَإِن
مِّن
شَيۡءٍ
إِلَّا
عِندَنَا
خَزَآئِنُهُۥ
وَمَا
نُنَزِّلُهُۥٓ
إِلَّا
بِقَدَرٖ
مَّعۡلُومٖ
٢١
每一种事物,我这里都有其仓库,我只依定数降下它。
经注
课程
反思
答案
基拉特
相关经文
15:21至15:25节的经注
اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭

تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا ۔ [المیزان:1021:ضعیف جدا] ‏ اس کا ایک روای قوی نہیں۔

” ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں “، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔

بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔

صفحہ نمبر4303

ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] ‏

مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو ۔ [مسند بزار:2088:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں “۔

جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» [56-الواقعة:68-70] ‏ ” جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ “

اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» [16-النحل:10] ‏ ” اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو “۔

” تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں “۔

” یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے “۔

” زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے “۔

پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر4304

ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔

عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔‏“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔‏“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔‏“

صفحہ نمبر4305
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有