登入
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
登入
登入
25:49
لنحيي به بلدة ميتا ونسقيه مما خلقنا انعاما واناسي كثيرا ٤٩
لِّنُحْـِۧىَ بِهِۦ بَلْدَةًۭ مَّيْتًۭا وَنُسْقِيَهُۥ مِمَّا خَلَقْنَآ أَنْعَـٰمًۭا وَأَنَاسِىَّ كَثِيرًۭا ٤٩
لِّنُحۡـِۧيَ
بِهِۦ
بَلۡدَةٗ
مَّيۡتٗا
وَنُسۡقِيَهُۥ
مِمَّا
خَلَقۡنَآ
أَنۡعَٰمٗا
وَأَنَاسِيَّ
كَثِيرٗا
٤٩
以便我借雨水而使已死的大地复活,并用雨水供我所创造的牲畜和人们做饮料。
经注
课程
反思
答案
基拉特
相关经文
25:48至25:50节的经注
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔

ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

صفحہ نمبر6073

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔

عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔

پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5] ‏

علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5] ‏

پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

صفحہ نمبر6074
بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔

ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔

بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810] ‏

صفحہ نمبر6075
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有