登入
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
登入
登入
2:205
واذا تولى سعى في الارض ليفسد فيها ويهلك الحرث والنسل والله لا يحب الفساد ٢٠٥
وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ ٢٠٥
وَإِذَا
تَوَلَّىٰ
سَعَىٰ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
لِيُفۡسِدَ
فِيهَا
وَيُهۡلِكَ
ٱلۡحَرۡثَ
وَٱلنَّسۡلَۚ
وَٱللَّهُ
لَا
يُحِبُّ
ٱلۡفَسَادَ
٢٠٥
他转脸之後,图谋不轨,蹂躏禾稼,伤害牲畜。真主是不喜作恶的。
经注
课程
反思
答案
基拉特
2:204至2:205节的经注
دل بھیڑیوں کے اور کھال انسانوں کی ٭٭

سدی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ منافق شخص تھا ظاہر میں مسلمان تھا اور لیکن باطن میں مخالف تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:229/4] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کی برائیاں کی تھیں جو رجیع میں شہید کئے گئے تھے تو ان شہداء کی تعریف میں «من یشری» والی آیت اتری اور ان منافقین کی مذمت کے بارے میں آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [ البقرہ: 204 ] ‏ والی آیت نازل ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے تمام منافقوں کے بارے میں پہلی اور دوسری آیت ہے اور تمام مومنوں کی تعریف کے بارے میں تیسری آیت ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:230/4] ‏ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول یہی ہے اور یہی صحیح ہے، نوف بکالی جو توراہ وانجیل کے بھی عالم تھے فرماتے ہیں کہ میں اس امت کے بعض لوگوں کی برائیاں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں پاتا ہوں لکھا ہے کہ بعض لوگ دین کے حیلے سے دنیا کماتے ہیں ان کی زبانیں تو شہد سے زیادہ میٹھی ہیں لیکن دل ایلوے [ مصبر ] ‏ سے زیادہ کڑوے ہیں لوگوں کے لیے بکریوں کی کھالیں پہنتے ہیں لیکن ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔

صفحہ نمبر739

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں اور میرے ساتھ دھوکے بازیاں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کی قسم کہ میں ان پر وہ فتنہ بھیجوں گا کہ بردبار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے، قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ منافقوں کا وصف ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے پڑھئے آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [ البقرہ: 204 ] ‏ سعید المقبری نے بھی جب یہ بات اور کتابوں کے حوالے سے بیان کی تو سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ قرآن شریف میں بھی ہے اور اسی آیت کی تلاوت کی تھی۔ سعید کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سنیے آیت شان نزول کے اعتبار سے گو کسی کے بارے میں ہی ہو لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہوئی ہے۔

ابن محیصن کی قرأت میں «وَيُشْهِدُ اللَّهَ» ہے معنی یہ ہوں گے کہ گو وہ اپنی زبان سے کچھ ہی کہے لیکن اس کے دل کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جیسے اور جگہ آیت «اِذَا جَاءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ» [ 63۔ المنافقون: 1 ] ‏ یعنی منافق تیرے پاس آ کر تیری نبوت کی گواہی دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق یقینًا جھوٹے ہیں،

لیکن جمہور کی قرأت «یشھداللہ» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ لوگوں کے سامنے تو اپنی خیانت چھپاتے ہیں لیکن اللہ کے سامنے ان کے دل کا کفر ونفاق ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ» [ 4۔ النسآء: 108 ] ‏ یعنی لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام ظاہر کرتے ہیں اور ان کے سامنے قسمیں کھا کر باور کراتے ہیں کہ جو ان کی زبان پر ہے وہ ہی ان کے دل میں ہے، صحیح معنی آیت کے یہی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/4] ‏ ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔

صفحہ نمبر740

«”أَلَدُّ“» کے معنی لغت میں ہیں سخت ٹیڑھا جیسے اور جگہ ہے آیت «وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا» [ 19۔ مریم: 97 ] ‏ یہی حالت منافق کی ہے کہ وہ اپنی حجت میں جھوٹ بولتا ہے اور حق سے ہٹ جاتا ہے، سیدھی بات چھوڑ دیتا ہے اور افترا اور بہتان بازی کرتا ہے اور گالیاں بکتا ہے، صحیح حدیث میں ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے بے وفا ئی کرے، جب جھگڑا کرے گالیاں بکے، [صحیح بخاری:34] ‏

ایک اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ برا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ [صحیح بخاری:2457] ‏ اس کی کئی ایک سندیں ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ برے اقوال والا ہے اسی طرح افعال بھی اس کے بدترین ہیں تو قول تو یہ ہے لیکن فعل اس کے سراسر خلاف ہے، عقیدہ بالکل فاسد ہے۔

صفحہ نمبر741
نماز اور ہماری رفتار ٭٭

سعی سے مراد یہاں قصد جیسے اور جگہ ہے آیت «ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى» [ 79۔ النازعات: 22 ] ‏ اور فرمان ہے آیت «فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ» [ 62۔ الجمعہ: 9 ] ‏ یعنی جمعہ کی نماز کا قصد و ارادہ کرو، یہاں سعی کے معنی دوڑنے کے نہیں کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے جب تم نماز کے لیے آؤ بلکہ سکینت و وقار کے ساتھ آؤ۔ [صحیح بخاری:636] ‏

صفحہ نمبر742
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有