登入
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
登入
登入
2:207
ومن الناس من يشري نفسه ابتغاء مرضات الله والله رءوف بالعباد ٢٠٧
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ ٢٠٧
وَمِنَ
ٱلنَّاسِ
مَن
يَشۡرِي
نَفۡسَهُ
ٱبۡتِغَآءَ
مَرۡضَاتِ
ٱللَّهِۚ
وَٱللَّهُ
رَءُوفُۢ
بِٱلۡعِبَادِ
٢٠٧
有人为求真主的喜悦而自愿捐躯。真主是仁爱众仆的。
经注
课程
反思
答案
基拉特
2:206至2:207节的经注
منافقوں کا مزید تعارف ٭٭

غرض یہ کہ ان منافقوں کا قصد زمین میں فساد پھیلانا کھیتی باڑی، زمین کی پیداوار اور حیوانوں کی نسل کو برباد کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی معنی مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہیں کہ ان لوگوں کے نفاق اور ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیتا ہے جس سے کھیتیوں کو اور جانوروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو بانی فساد ہوں ناپسند کرتا ہے۔ ان بدکرداروں کو جب وعظ نصیحت کے ذریعہ سمجھایا جائے تو یہ اور بھڑک اٹھتے ہیں اور مخالفت کے جوش میں گناہوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں آیت «وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ اَلنَّارُ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [ 22۔ الحج: 72 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی آیتیں جب ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کافروں کے منہ چڑھ جاتے ہیں اور پڑھنے والوں پر جھپٹتے ہیں، سنو، اس سے بھی بڑھ کر سنو، کافروں کے لیے ہمارا فرمان جہنم کا ہے جو بدترین جگہ ہے، یہاں بھی یہی فرمایا کہ انہیں جہنم کافی ہے یعنی سزا میں وہ بدترین اوڑھنا بچھونا ہے۔

صفحہ نمبر744
مومن کون؟ ٭٭

منافقوں کی مذموم خصلتیں بیان فرما کر اب مومنوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں، یہ آیت سیدنا صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے جب مدینہ کی طرف ہجرت کرنی چاہی تو کافروں نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں مال لے کر نہیں جانے دیں گے اگر تم مال چھوڑ کر جانا چاہتے ہو تو تمہیں اختیار ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے سب مال سے علیحدگی کر لی اور کفار نے اس پر قبضہ کر لیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی جس پر یہ آیت اتری۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت آپ رضی اللہ عنہ کے استقبال کے لیے حرہ تک آئی اور مبارکبادیاں دیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بڑا اچھا بیو پار کیا بڑے نفع کی تجارت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:248/4] ‏ آپ رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے اللہ تعالیٰ آپ کی تجارتوں کو بھی نقصان والی نہ کرے آخر بتاؤ تو یہ مبارکبادیاں کیا ہیں۔ ان بزرگوں نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی۔ قریش نے ان سے کہا تھا کہ جب آپ مکہ میں آئے آپ کے پاس مال نہ تھا یہ سب مال یہیں کمایا اب اس مال کو لے کر ہم جانے نہ دیں گے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے مال کو چھوڑا اور دین لے کر خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو گئے،

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ ہجرت کے ارادے سے نکلے اور کفار مکہ کو علم ہوا تو سب نے آن کر گھیر لیا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے تیر نکال لیے اور فرمایا اے مکہ والو تم خوب جانتے ہو کہ میں کیسا تیر انداز ہوں میرا ایک نشانہ بھی خطا نہیں جاتا جب تک یہ تیر ختم نہ ہوں گے میں تم کو چھیدتا رہوں گا اس کے بعد تلوار سے تم سے لڑوں گا اور اس میں بھی تم میں سے کسی سے کم نہیں ہوں جب تلوار کے بھی ٹکڑے ہو جائیں گے پھر تم میرے پاس آسکتے ہو پھر جو چاہو کر لو اگر یہ تمہیں منظور ہے تو بسم اللہ ورنہ سنو میں تمہیں اپنا کل مال دئیے دیتا ہوں سب لے لو اور مجھے جانے دو وہ مال لینے پر رضامند ہو گئے اور اس طرح آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہاں بذریعہ وحی یہ آیت نازل ہو چکی تھی آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مبارک باد دی۔ [حاکم:400/3صحیح] ‏

اکثر مفسرین کا یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت عام ہے ہر مجاہد فی سبیل اللہ کی شان ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» [ 9۔ التوبہ: 111 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے جنت دے دی ہے یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور شہید بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ سچا عہد توراہ انجیل اور قرآن میں موجود ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچے عہد والا اور کون ہو گا تم اے ایماندارو اس خرید فروخت اور ادلے بدلے سے خوش ہو جاؤ یہی بڑی کامیابی ہے، ہشام بن عامر نے جبکہ کفار کی دونوں صفوں میں گھس کر ان پر یکہ وتنہا بےپناہ حملہ کر دیا تو بعض لوگوں نے اسے خلاف شرع سمجھا۔ لیکن سیدنا عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما وغیرہ نے ان کی تردید کی اور اسی آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ» [ البقرہ: 207 ] ‏ کی تلاوت کر کے سنا دی۔

صفحہ نمبر745
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有