登入
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
🚀 加入我们的斋月挑战!
学到更多
登入
登入
8:2
انما المومنون الذين اذا ذكر الله وجلت قلوبهم واذا تليت عليهم اياته زادتهم ايمانا وعلى ربهم يتوكلون ٢
إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَـٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ٢
إِنَّمَا
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
ٱلَّذِينَ
إِذَا
ذُكِرَ
ٱللَّهُ
وَجِلَتۡ
قُلُوبُهُمۡ
وَإِذَا
تُلِيَتۡ
عَلَيۡهِمۡ
ءَايَٰتُهُۥ
زَادَتۡهُمۡ
إِيمَٰنٗا
وَعَلَىٰ
رَبِّهِمۡ
يَتَوَكَّلُونَ
٢
只有这等人是信士:当记念真主的时候,他们内心感觉恐惧;当宣读真主的迹象的时候,那些迹象增加了他们信仰,他们只信任他们的主;
经注
课程
反思
答案
基拉特
8:1至8:2节的经注

آیت 1 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْص وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ یہاں مال غنیمت کے لیے لفظ انفال استعمال کیا گیا ہے۔ انفال جمع ہے نفل کی اور نفل کے معنی ہیں اضافی شے۔ مثلاً نماز نفل ‘ جسے ادا کرلیں تو باعث ثواب ہے اور اگر ادا نہ کریں تو مواخذہ نہیں۔ اسی طرح جنگ میں اصل مطلوب شے تو فتح ہے جب کہ مال غنیمت ایک اضافی انعام ہے۔ جیسا کہ تمہیدی گفتگو میں بتایا جا چکا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ یہاں ایک مختصر قطعی اور دو ٹوک حکم کے ذریعے سے اس مسئلہ کی جڑ کاٹ دی گئی ہے اور بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ انفال کل کے کل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ملکیت ہیں۔ اس لیے کہ یہ فتح تمہیں اللہ کی خصوصی مدد اور اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے سے نصیب ہوئی ہے۔ لہٰذا انفال کے حق دار بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی ہیں۔ اس قانون کے تحت یہ تمام غنیمتیں اسلامی ریاست کی ملکیت قرار پائیں اور تمام مجاہدین کو حکم دے دیا گیا کہ انفرادی طور جو چیز جس کسی کے پاس ہے وہ اسے لا کر بیت المال میں جمع کرا دے۔ اس طریقے سے سب لوگوں کو zero level پر لا کر کھڑا کردیا گیا اور یوں یہ مسئلہ احسن طور پر حل ہوگیا۔ اس کے بعد جس کو جو دیا گیا اس نے وہ بخوشی قبول کرلیا۔اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں بندۂ مومن کی شخصیت کے کچھ خدوخال بیان ہوئے ہیں۔ مگر ان خدوخال کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مؤمن اور مسلمان دو مترادف الفاظ یا اصطلاحات نہیں ہیں۔ قرآن ان دونوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ یہ فرق سورة الحجرات کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط اے نبی ﷺ ! یہ بدو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ ان سے کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں جبکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اسلام اور ایمان کا یہ فرق اچھی طرح سمجھنے کے لیے ارکان اسلام کی تفصیل ذہن میں تازہ کرلیجئے جو قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا کا مرحلۂ اولیٰ طے کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَھَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاِقَام الصَّلَاۃِ وَاِیْتَاء الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ 1 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوٰۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔یہ پانچ ارکان اسلام ہیں ‘ جن سے ہر مسلمان واقف ہے۔ مگر جب ایمان کی بات ہوگی تو ان پانچ ارکان کے ساتھ دو مزید ارکان اضافی طور پر شامل ہوجائیں گے ‘ اور وہ ہیں دل کا یقین اور عمل میں جہاد۔ چناچہ ملاحظہ ہو سورة الحجرات کی اگلی آیت میں بندۂ مؤمن کی شخصیت کا یہ نقشہ : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ مؤمن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائیں اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر ان کے دلوں میں شک باقی نہ رہے اور وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ صرف وہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ یعنی کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد انسان قانونی طور پر مسلمان ہوگیا اور تمام ارکان اسلام اس کے لیے لازمی قرار پائے۔ مگر حقیقی مؤمن وہ تب بنے گا جب اس کے دل کو گہرے یقین ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا والا ایمان نصیب ہوگا اور عملی طور پر وہ جہاد میں بھی حصہ لے گا۔ بندۂ مؤمن کی اسی تعریف definition کی روشنی میں اہل ایمان کی کیفیت یہاں سورة الانفال میں دو حصوں میں الگ الگ بیان ہوئی ہے۔ وہ اس طرح کہ حقیقی ایمان والے حصے کی کیفیت کو آیت 2 اور 3 میں بیان کیا گیا ہے ‘ جبکہ اس کے دوسرے جہاد والے حصے کی کیفیات کو سورت کی آخری آیت سے پہلے والی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک پرکار compass کو کھول دیا گیا ہو ‘ جس کی ایک نوک سورت کے آغاز پر ہے پہلی آیت چھوڑ کر جبکہ دوسری نوک سورت کے آخر پر ہے آخری آیت چھوڑ کر۔ اس وضاحت کے بعد اب ملاحظہ ہو بندۂ مؤمن کی تعریف definition کا پہلا حصہ :

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有